ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / تجارتی سرگرمیوں سے خالی مارکیٹس کو ڈھاکر منافع بخش بنانے ہمہ منزلہ پارکنگ میں تبدیل کیاجائے گا:گناشیکھر

تجارتی سرگرمیوں سے خالی مارکیٹس کو ڈھاکر منافع بخش بنانے ہمہ منزلہ پارکنگ میں تبدیل کیاجائے گا:گناشیکھر

Wed, 08 Mar 2017 11:03:22    S.O. News Service

بنگلورو،7؍مارچ(ایس او نیوز) بروہت بنگلور مہانگر پالیکے (بی بی ایم پی) کو کوئی مالی فائدنہ نہ پہنچارہے 13؍مارکیٹوں کو بند کرکے وہاں ہمہ منزلہ پارکینگ کی سہولت مہیاکرنے کے لئے بی بی ایم پی ٹیکس اینڈ فینانس اسٹیڈنگ کمیٹی نے ایک اہم پراجکٹ تیارکرنے کا فیصلہ کیاہے۔ گزشتہ 15 سے 20؍برسوں سے مذکورہ 13؍مارکیٹوں میں کسی طرح کی کوئی کاروباری سرگرمیاں نہ ہونے کا پتا لگایاگیاہے۔ اب یہاں ہمہ منزلہ پارکنگ کی سہولت مہیا کرنے کے لئے بی بی ایم پی بجٹ میں رقم مختص کرنے کا بھی فیصلہ کیاگیاہے۔ ٹیکس اینڈ فینانس اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیرمین ایم کے گنا شیکھر نے آج کمیٹی کے دیگر اراکین کے ہمراہ شہر میں موجود بی بی ایم پی کے مذکورہ 13؍مارکیٹوں کا دورہ کرنے کے بعد اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ شہرمیں 50 سے 60؍برس قدیم عمارتیں خطرہ کا نشان بن چکی ہیں، جن میں سری کرشنا راجیندرا مٹن مارکیٹ، کبن پیٹ مارکیٹ، روینیو روڈ بلاپورہ مارکیٹ سمیت جملہ 13؍مارکیٹوں کا آج انہوں نے معائنہ کیا ہے۔ معائنہ کے دوران انہیں پتا چلا ہے کہ اکثر مارکیٹوں میں کوئی تجارتی سرگرمیاں نہیں ہورہی ہیں۔ اس کے علاوہ کئی دکانوں پر برسوں سے تالے پڑے ہوے ہیں جو دکانیں چل رہی ہیں ان کا کرایہ بھی بہت ہی کم مقرر کیاگیاہے۔ مسٹر گناشیکھر نے بتایاکہ سب سے پہلے انہوں نے کبن روڈ کے ایم کے ناگنا مارکیٹ کا دورہ کیا، پتاچلا کہ کئی دکانوں کو مکان میں تبدیل کرلیا گیاہے اور اس مارکیٹ میں گاہکوں کی تعداد بھی نہ کے برابر ہے۔ اسی طرح کبن مین روڈ پر موجود مٹن مارکیٹ میں چند دکاندار بی بی ایم پی کو کرایہ اداکئے بغیر ہی اپنا کاروبار چلارہے ہیں۔انہوں نے بتایاکہ شہر میں 13؍مارکیٹس ایسے ہیں جہاں کسی طرح کی تجارتی سرگرمیاں نہیں ہوپارہی ہیں جس کی وجہ سے ان مارکیٹوں کے اطراف واکناف گاڑیوں کا اژدھام کافی زیادہ دکھائی دے رہاہے۔ اس بات کو انہوں نے محسوس کیا کہ ان بیکار مارکیٹوں کو قدیم عمارتوں کو ڈھاکر یہاں ہمہ منزلہ پارکنگ کی سہولت فراہم کی جائے تو بہتر ہوگا جس سے بی بی ایم پی کو آمدنی بھی ہوگی۔ مسٹرگنا شیکھر نے بتایاکہ کے آر مارکیٹ میں 182دکانیں موجود ہیں۔ لیکن یہاں سے بی بی ایم پی کو صرف 99,812؍روپئے سالانہ آمدنی ہورہی ہے۔ جبکہ کبن پیٹ مارکیٹ میں 59؍دکانوں سے صرف 19,720؍روپئے، بلاپورہ مارکیٹ میں 53؍دکانوں سے سالانہ 6256؍روپئے کرایہ کی شکل میں بی بی ایم پی کو حاصل ہورہے ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ بلاپورہ مارکیٹ میں 5؍روپئے کرایہ کی رسید دے کر 10؍روپئے وصول کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ اس معاملہ کی جانچ کی جائے گی۔ اس میں ملوث افسر کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ملازمت سے معطل کے لئے وہ بی بی ایم پی کمشنر کو سفارش کریں گے۔ گناشیکھر کے ہمراہ کمیٹی کے اراکین ممتا واسودیو، سومنگلا، ڈپٹی کمشنر (مارکیٹ) سروجا دیوی سمیت دیگر موجود تھے۔


Share: